اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، حزبِ یاشر کے سربراہ گادی آیزنکوت نے منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے اختتام تک اسرائیل کی سکیورٹی امداد روکنے کے اعلان کے بعد بنیامین نیتن یاہو کے طرزِ عمل کو ’’حقیقی خطرہ‘‘ قرار دیا۔
آیزنکوت نے کہا: اسرائیل کے سکیورٹی اداروں اور شہریوں کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے تزویراتی تعلقات میں تبدیلی کا علم ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ بنیامین نیتن یاہو کا طرزِ عمل کس قدر حقیقی خطرہ بن چکا ہے۔
ٹرمپ اس سے قبل اعلان کر چکے تھے کہ واشنگٹن، ان کے بقول چند ماہ پہلے نیتن یاہو کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت، رواں سال کے اختتام تک اسرائیل کو دی جانے والی مالی امداد روک دے گا۔
عبرانی ٹی وی چینل ’کان‘ نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی وزارتِ جنگ اور فوج کے عہدیدار ٹرمپ کے اس اعلان پر حیران رہ گئے۔ اسرائیلی چینل 12 کے مطابق، ٹرمپ کے اعلان تک اسرائیلی وزارتِ خزانہ کو واشنگٹن کی جانب سے فوجی امداد روکنے کے ارادے کا علم نہیں تھا۔
چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی جانب سے سالانہ 3.8 ارب ڈالر کی امداد اسرائیل کے 2027ء اور 2028ء کے فوجی بجٹ کے لیے مالی وسائل کا ایک اہم حصہ فراہم کرنے والی تھی۔
2016ء میں دستخط کیے گئے مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکہ نے 2028ء تک 10 سال کے عرصے میں اسرائیل کو مجموعی طور پر 38 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
آپ کا تبصرہ